کشمیر کی موجودہ صورتحال تشویشناک ، مسئلے کو سیاسی طور پر حل کیا جائے:ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ
نئی دہلی 18جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے وادی کشمیر میں گذشتہ ایک ہفتہ سے زائد جاری تشدد کے واقعات پر اپنے گہرے غم کااظہا رکرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری لیڈر برہان وانی کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کو قابو پانے کے لیے سیکورٹی فورسز کی طرف سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی وجہ سے وادی میں تین درجن سے زائداموات ہوئی ہیں اور سینکڑوں معصوم نوجوان زخمی اور جسمانی طور پر معذور ہوئے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری الیاس تمبے نے اس ضمن میں اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کاپیچیدہ صورتحال امن و امان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کو سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں موجودہ بحران مبینہ طور پر آر ایس ایس اور بی جے پی کی طرف سے کشمیر میںآبادی خصوصیات میں تبدیلی کے نفاذ کے منصوبہ بندی سمیت اچھے یا برے اسلو ب حکمرانی کا مسئلہ، اقتصادی ترغیبات،روزگار مواقع جیسے وجوہات شامل ہیں۔الیاس تمبے نے مزید کہاہے کہ کشمیر میں فوج کو دیئے گئے مسلح افواج ( خصوصی اختیارات) ایکٹ، AFSPAکی وجہ سے مسئلہ کی نوعیت میں اضافہ ہوا ہے۔ برہان وانی کی ہلاکت اور تقریبا 40سے زائد مظاہرین کی ہلاکت سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ طاقت کے زیادہ استعمال سے کشمیر میں بدامنی کا حل نہیں نکالا جاسکتا ہے۔ کشمیر میں اگر طاقت کا زیادہ استعمال کیاجاتا رہا تو کشمیر ہندوستان سے قریب ہونے کی بجائے دور ہوتا چلا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کشمیر میں اگر صورتحال کو فوری طور پر قابو نہیں پایا گیا تووادی میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے امکانات ہیں۔ کشمیر میں فوج کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح کشمیر میں فوج کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے تو پھر کیوں جاٹ آندولن اور پٹیل آندولن جیسے حالات کے دوران فوج کو کھلی چھوٹ نہیں دی گئی تھی۔انہوں نے اس بات کی طرف نشاندہی کرتے ہوے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے سیکورٹی فورسز کو جنگ جیسے حالات میں بھی کالے قانون AFSPAکے استعمال پر تنقید کی ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں حکومت کو ممکن حد تک محتاط اور قابو میں رہنا چاہئے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو اس بات کے تعلق سے سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے کہ کشمیر میں موجودہ کشید ہ صورتحال اقوام متحدہ کونسل اراکین تک پہنچ گیا ہے اورانہوں نے کشمیر کے صورتحال پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ ہندوستان کا "اندرونی معاملہ "نہیں ہے۔ جس سے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ خراب ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کشمیر میں جاری بحران میں میڈیا کے کردارپر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا اس معاملے میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے ترجمان کی طرح کیوں بات کررہا ہے۔ اس قسم کی غیر پیشہ وارانہ رپورٹنگ کے ذمہ دار میڈیا چینلس پر قانونی چارہ جوئی کے ذریعے سزا ملنی چاہئے۔ الیاس تمبے نے حکومت سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ کشمیر مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کشمیریوں کے تمام جماعتوں کو بات چیت میں شامل کرنا چاہئے۔تمام کشمیریوں کودہشت گرد قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کیونکہ عوام کو دھوکہ دینے کا یہ سب سے پر فریب طریقہ ہے۔ کشمیر کی قسمت کافیصلہ ناگپورمیں تعین نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ ناگپور یا گجرات کی قسمت کا فیصلہ سری نگر میں تعین نہیں کیا جاتا ہے۔ !